
سوال: فراز صاحب اب لکھنے کا کیا عالم ہے؟
فراز: زیادہ تو میں کبھی بھی نہیں لکھتا تھا۔ کبھی لکھنے پہ آتے ہیں تو دو چار چیزیں اکٹھی ہو جاتی ہیں،(in one span) کبھی چھ چھ مہینے کچھ نہیں لکھا جاتا، زبردستی نہیں کرتے، طبیعیت کے ساتھ اور شعر کے ساتھ۔ تو وہی میرے لکھنے کی رفتار ہے جو تھی۔
سوال: کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کیوں لکھتے ہیں؟
فراز: (سوچتے ہوئے) یہ تو، ایسے ہے، اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ پوچھیں کہ سانس کیوں لیتے ہو۔ اب تو یہ میری زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔ شروع میں تو شاید کوئی خیال بھی نہیں تھا لیکن جب اس بیماری نے اپنی گرفت میں لیا تو اب نہ یہ جان چھوڑتی ہے اور نہ ، بقول غالب کے ’نہ پھندا ٹوٹتا ہے نہ جان نکلتی ہے‘۔
سوال: لیکن جب آپ نے لکھنا شروع کیا تھا اور پہلی چیز جو آپ نے لکھی تھی کیا وہ آپ کو یاد ہے؟
فراز: ہاں یاد ہے، اس لیے کہ بہت بچپن کا واقعہ ہے اس لیے بھول نہیں سکتا۔ میں نویں سے دسویں میں تھا اور میرے بڑے بھائی محمود دسویں سے کالج میں داخل ہوئے تھے تو والد صاحب ہمارے لیے کچھ کپڑے لائے تھے۔ اس کے لیے تو سوٹ لائے اور میرے لیے کشمیرے کا پیس کوٹ کے لیے لے آئے، تو وہ مجھے بالکل کمبل سا لگا۔ چیک تھا، آج کل تو بہت فیشن ہے لیکن اس وقت وہ مجھے کمبل سا لگا اور میں نے ایک شعر لکھا جو یہ تھا:
سب کے واسطے لائے ہیں کپڑے سیل سے
لائے ہیں میرے لیے قیدی کا کمبل جیل سے
تو بعد میں یہ میرا بنیادی شعر اس اعتبار سے بھی ہوا کہ کلاس کا جو فرق تھا وہ میرے ذہن سے چپک کر رہ گیا تھا اور جب ہم فیملی سے ہٹ کر دنیا کے اور مسائل میں آئے تو پتہ چلا کہ بڑا کنٹراڈکشن (تضاد) ہے تو اسی طرح شاعری بھی میں نے شروع کی، دو طرح کی۔ ایک تو اسی زمانے میں وہ بھی ہوا جسے عشق کہتے ہیں اور ایک یہ بلا بھی تھی۔
خوش ہو اے دل کہ تجھے ایک بلا اور لگی
تو اس طرح میری زندگی دو چیزوں کے گرد گھومتی رہی۔ پھر ہم سوشلزم کی تحریکوں میں رہے، کمیونزم اور کیپیٹلزم پڑھا۔ کالج میں جب تھے تو جب سے ہی پڑھنا شروع کیا۔ پھر کمیونسٹ لیڈر تھے رائٹر بھی تھے نیاز احمد صاحب، تب تک ہمیں کچھ سمجھ نہیں تھی کہ کمیونسسٹ کیا ہوتے ہیں۔ ہم شام کو نیاز حیدر کے پاس جا کر بیٹھتے تھے۔ وہ شام کو اخبار بیچتے تھے اور بہت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ تو ہمیں لگا کہ ٹھیک ٹھاک لوگ ہوتے ہیں۔ خیر پھر وہ انڈیا چلے گئے۔ اس کے بعد ہم ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے لیکن میں کوئی ڈسپلنڈ (منظم) آدمی نہیں تھا، جلسہ ہوتا تھا تو میں اس وقت پہنچتا تھا جب جلسہ ختم ہونے والا ہوتا حالانکہ میں جوائنٹ سیکرٹری تھا۔ فارغ بخاری اس وقت سیکرٹری تھے اور رضا ہمدانی وغیرہ تھے۔ اور مجھے اس لیے جوائنٹ سیکرٹری بنایا گیا تھا کہ نوجوان ہے تو انرجیٹک ہو گا۔ اس کے بعد ریڈیو ملازمت کر لی اس میں بھی سیکھا بہت کچھ۔ میری پہلی اپائنٹمنٹ سکرپٹ رائٹر کے طور پر ہوئی، کراچی میں۔
سوال: تو آپ نے ملازمت شروع کی کراچی سے تو اس زمانے میں وہاں اور کون کون لوگ تھے؟
فراز: وہاں بڑے بڑے لوگ تھے اس وقت، ارم لکھنوی، سیماب اکبر آبادی اور شاہد احمد دہلوی، اور میں تو اردو بول بھی نہیں سکتا تھا اس زمانے تک، لکھ لیتا تھا ٹھیک ٹھاک لیکن بول نہیں سکتا تھا۔ کراچی جانے سے پہلے تو ادھر ادھر ہم اردو میں بات ہی نہیں کرتے تھے تو جب کراچی پہنچا تو اکثر تو میں چپ رہتا تھا۔ یا ہاں ہوں ہاں کرتا تھا۔ پھر کراچی میں والدہ یاد آتی تھی۔ دن میں سکرپٹ لکھتے تھے اور رات میں والدہ کو یاد کر کے روتے تھے۔ ہم نے سب کی منت زاری کی اور کہا کہ ہم نہیں رہ سکتے، ہم واپس جاتے ہیں۔ تو اس طرح ہمارا ٹرانسفر کر دیا گیا۔ پشاور میں ان دنوں افضل اقبال صاحب تھے ڈائریکٹر پھر ن م راشد آگئے ڈائریکٹر ہو کر۔ تو انہوں نے کہا کہ خالی بیٹھے رہتے ہو پڑھنا کیوں چھوڑا تم نے، یہ کوئی ایسا کام نہیں ہے کہ یہیں بیٹھ کے کرو۔ کالج ختم کر کے آؤ جو لکھنا ہے وہ گھر جا کر بھی لکھ سکتے ہو۔ تو اس طرح ہم نے کالج جوائن کیا۔ پھر ایم بھی کیا۔
سوال: ایم اے آپ نے کہاں سے کیا؟
فراز: پشاور یونیورسٹی سے۔ اسی زمانے میں میں پروڈیوسر ہو چکا تھا لیکن جب ایم اے کر لیا تو لیکچرر شپ کی آفر آ گئی۔ مجھے پڑھانا بہت پسند تھا تو پشاور یونیورسٹی چلے گئے۔پتا نہیں کیسا پڑھاتا تھا لیکن دوسرے سبجیکٹ کے لڑکے بھی کلاس میں آ جاتے تھے۔ مجھے ٹیچنگ سے واقعی محبت تھی لیکن ایک روز میں نے دیکھا کہ ایک سینئر پروفیسر، پورا نام تو اب ان کا یاد نہیں، خلجی صاحب کو جنہیں اسلامیہ کالج کا پرنسپل بنا دیا گیا تھا، بڑا پریسٹیجس (پُر وقار) کالج ہوتا تھا، الیکشن میں لڑکے خوب گالیاں دے رہے ہیں۔ میں نے سوچا کے پروفیسر کے پاس تو عزت کے سوا کچھ نہیں ہوتا تو اس کے ساتھ بھی یہ ہو رہا ہے، بس وہ دن تھا کہ میں سوچا کہ ٹیچنگ اب نہیں کرنی۔
جو بھی پہلی نوکری ملے گی میں اس پر چلا جاؤں گا۔ اسی دوران اشتہار آیا اور میں نے اس کے لیے اپلائی کر دیا اور وہ واحد ملازمت تھی جس کے لیے میں نے اپلائی کیا تھا۔ لیکن اس پر انہوں نے کسی اور کو رکھ لیا۔ کچھ دن بعد ایک دوست سے ملاقات ہوئی۔ اس نے کوئی حکومت کی بات کی میں نے کہا کہ بھئی ہم نے تو درخواست بھی دی تھی لیکن ہمیں تو انہوں نے انٹرویو کے لیے بھی نہیں بلایا۔ اس کے کچھ دن بعد سیکرٹری کا فون آ گیا۔ دوبارہ انٹرویو ہوئے اور میں سلیکٹ ہو گیا اور اس طرح میں نیشنل سینٹر کا ڈائریکٹر رہا۔ پھر 1977 میں جب بھٹو صاحب اکیڈمی آف لیٹرز قائم کرنا چاہتے تھے تو میں اسلام آباد آ گیا۔ 1977 میں نے ایک نظم لکھی، فوج کے بارے میں ’پیشہ ور قاتلو‘۔ وہ بھٹو صاحب کا آخری زمانہ تھا لیکن فوج نے گرپ (گرفت) حاصل کر لی تھی اور فوج سٹوڈنٹس کو مار رہی تھی تو مجھے گرفتار کر لیا گیا۔ مجھے انہوں نے دفتر سے گرفتار کیا حالانکہ میں ڈائریکٹر جنرل تھا۔ لیکن وہ آنکھوں پر پٹی وغیرہ باندھ کر لے گئے۔ مانسہرہ کیمپ۔ مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ جب مجھے سپریم کورٹ نے رہا کیا تو انہوں نے مجھ پر کورٹ مارشل کے تحت مقدمہ چلانے کی کوشش کی۔ عدالت سے مجھے وہ سی این سی ہاؤس لے گئے وہاں ضیاء الحق تھا اور میرا ایک دوست وہ جنرل بنا ہوا تھا جنرل عارف۔ ضیاء الحق بھٹو صاحب کی اتنی تعریفیں کر رہا تھا کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔ بس یہ سمجھیں کہ خدا کو اس نے معاف کیا باقی تمام پیغبروں سے وہ انہیں اونچا ثابت کر رہا تھا۔ یہ میں 30 جون کی بات کر رہا ہوں اور چار جولائی کو انہوں نے تختہ الٹنا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے مجھ سے انگریزی میں کہا کہ ’آپ کو وزیراعظم کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے مداخلت کر کے آپ کو بچایا‘۔ دوسرے دن میں دفتر گیا تو بہت فون آئے۔ اخبار میں آ گیا تھا کہ فوج نے فراز کے خلاف الزامات واپس لے لیے ہیں۔
سوال: کیا آپ کو یہ نظم یاد ہے؟
فراز: نہیں یاد نہیں ہے۔ وہ میں نے کہیں پڑھی بھی نہیں تھی۔ کہیں چھپی تھی اور لوگوں نے اس کی فوٹو کاپیاں کرا کے بانٹی تھیں۔
’پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں‘ یہ اس نظم کی آخری لائن تھی۔ خیر دفتر میں بھٹو صاحب کا فون بھی آیا۔ اس سے پہلے میری ان سے کوئی ملاقات نہیں تھی نہ ہی کبھی بات ہوئی تھی۔ ان کے ملٹری سیکرٹری نے کہا کہ وزیراعظم بات کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’فراز دس از می، دس ٹائم آئی سیوڈ یور لائف۔ دے وانٹ ٹو ٹرائی یو‘۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور ان سے کہا کہ آپ ان دو لوگوں سے انتہائی محتاط رہیے گا۔ انہوں نے پوچھا کن دو لوگوں سے میں نے انہیں بتایا کہ ایک تو جنرل ضیاء الحق سے اور ایک کوثر نیازی سے، میں نے ان سے کہا کہ یہ آپ کی پیٹھ میں چھرا گھونپیں گے اور میں نے اس کی آنکھوں میں مکاری دیکھی ہے۔ انہوں نے اسے زیادہ اہمیت نہیں دی اور کہا کہ یہ کیا کریں گے ہمارا پی این اے سے معاہدہ ہو گیا ہے اور ہم اکتوبر میں انتخابات کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاعری ہو گی؟ میں نے جواب دیا کہ شاعری تو ہو گی لیکن میں نہ تو جالب ہوں اور نہ جمیل الدین عالی۔
سوال: کتنی بار جیل جانا پڑا؟
فراز: جیل تو میں ایک ہی بار گیا، ایک بار جیل اور ایک بار جلاوطنی۔ لیکن قیدِ تنہائی اور جس طرح لے گئے تھے۔ حکومتیں بھی ہماری عجیب ہوتی ہیں۔ مجھے آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے گئے اور لے جا کر کیمپ جیل میں ڈال دیا۔ پہلے تو کہیں تہہ خانے میں رکھا اور پھر جب کیمپ جیل میں ڈالا تو میں خوش ہوا کہ سلاخیں تھیں اور ہوا آ رہی تھی۔ تو خوشی اس کی ہوئی کہ کم از کم ہوا تو آ رہی ہے۔ باہر ایک گارڈ تھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کون سی جگہ ہے؟ وہ تو مجھے آنکھیں بند کر کے اور چھپا کر لائے تھے۔ اس نے فوراً بتا دیا کہ ’مانسر کیمپ‘ ۔ اس کے بعد ایک میجر آیا اور مجھے یوں یوں دیکھنے لگا اور اس کے بعد بولا: آپ احمد فراز تو نہیں؟ میں نے کہا کہ جو مجھے یہاں چھوڑ گئے ہیں انہوں نے کوائف تو بھیجے ہوں گے۔ اس نے کہا کہ انہوں نے تو ہم سے کہا تھا کہ انڈیا کا ایجنٹ بھیج رہے ہیں۔ میں کہا تو پھر ہوں۔ تو یہ ہیں ہماری فوج کے کرتوت۔
سوال: آپ اپنے اب تک کے سفر اور کام کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، کیا زندگی ایسے ہی گزارنا چاہتے تھے جیسی آپ نے گزاری ہے؟
فراز: یار زندگی، اگر مجھ سے پوچھا جائے تو (آئی وڈ لائک ٹو ریپیٹ اٹ) میں یہی زندگی دوبارہ جینا پسند کروں۔ احمد فراز کی حیثیت سے اتنا خوش رہا ہوں۔ مطلب ہے کہ دکھوں کے بعد بھی لوگوں جو مجھے پیار دیا ہے۔ خواہش تو ہے میری لیکن خواب ہو جائیں گے۔ انڈیا کا یا پاکستان کا کوئی اچھا یا برا آرٹسٹ نہیں جس نے مجھے نہ گایا ہو۔ لتا، مہدی حسن، نور جہاں، جگجیت، پنکھج اداس، طلعت محمود تک نے مجھے گایا ہے۔ میری غزلیں گائی ہیں حالانکہ میں فلم کا لکھنے والا نہیں ہوں۔ اگرچہ مجھے ہلالِ پاکستان کا ایوارڈ دیا جو میں نے فوجی حکومت کی وجہ سے واپس کر دیا۔ ہلالِ امتیاز، میں واپس کر دیا۔ میں نے کہہ دیا کہ آپ کا اعزاز نہیں چاہیے سویلین حکومت ہوتی تو میں لے لیتا۔ اس کے بعد بڑے لوگوں نے میری دیکھا دیکھی واپس کیے۔ ہمارے ملک کی حالت جتنی فوج نے خراب کی ہے نا کسی نے نہیں کی۔ یہ تو ایک عام بات ہے کہ چوکیدار گھر کا مالک بن جائے۔ لیکن تاریخی طور پر بھی نوے ہزار فوجیوں نے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے۔ پوری انسانی تاریخ میں، جو انہوں نے ڈالے۔ جنہیں ہم نے پال پال کے تیار کیا تھا۔ جنگ کے میں خلاف ہوں میں لکھنے والا ہوں اور امن چاہتا ہوں۔ لیکن ان کا جو کردار ہے ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ کی گاڑی میں پھرتا ہے ایک جرنیل۔ ایک سو چالیس جرنیل ہیں۔ کس لیے بابا رکھے ہوئے ہیں۔اپنے لوگوں پر بمباری کرتے ہیں، اپنے لوگوں قتل کرتے ہیں، اپنے لوگوں کو قید کرتے ہیں۔
سوال : مشرقی پاکستان، جو پاکستان کا اکثریتی حصہ تھا، جو کچھ وہاں کیا گیا اور جو کچھ وہاں، کیا کبھی سوچا ہے اس ردِ عمل کے بارے میں جو یہاں ظاہر کیا گیا؟
فراز: دیکھیں سویلین پاپولیشن (آبادی) بے بس ہوتی ہے۔ایک میڈیا ہمیشہ کنٹرول میں رہا۔ ایک تو لوگ ان پڑھ ہیں۔ دماغ کا استعمال بھی کم ہی ہوتا ہے بیشتر آبادی اخبار بھی نہیں پڑھ پاتی۔ جو پڑھے لکھے ہیں وہ بے بس ہو جاتے ہیں کہ حکومت ہے کچھ نہ کچھ تو کرے گی۔ لوگوں کو پتہ نہیں چلتا، بی بی سی یا دوسرے غیر ملکی ذرائع سے کوئی خبر مل جاتی ہے۔یہ تو جب ہتھیار ڈال رہے تھے تو تب بھی یہ خبر دے رہے تھے کہ دو کمانڈروں کا معاہدہ ہو رہا ہے۔ میں تو وہاں گیا ہوں، وہاں انہوں نے میوزیم آف لیبرٹی بنایا ہوا ہے۔ دوسری دفعہ انہوں نے کہا تو میں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے پوچھا کیا وجہ ہے، سارے ڈیلیگیشن (وفود) کے لوگ جا رہے ہیں، میں نے کہا میں نہیں جاؤں گا۔ انٹرنیشل کانفرنس تھی۔ اس میوزیم میں انہوں نے رکھی ہوئی ہے اروڑا کی تصویر نیازی اس کے سامنے ہتھیار ڈال رہا ہے۔ وہ میز جس پر سائن ہوئے تھے اور وہ کھوپڑیاں، جو جنوسائڈ (جسے وہ نسل کُشی) کہتے ہیں، کیا تھا۔ تو بہر حال یہ ہے؟ اور جرنیل جس نے ہتھیار ڈالے تھے اسے اسی شان شوکت سے دفن کیا گیا، غازی جو تھا۔ میں نے تو شعر کہا ہے:
عدو کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا
کوئی فراز ساکافر نہیں تھا غازی تھا
بہرحال فوج کا کردار جو رہا مجھے اس نفرت ہو گئی ہے۔
سوال: اور یہ جو سیاستداں بار بار فوج سے مفاہمت اور اتحاد کرتے رہتے ہیں؟
فراز: ان پڑھ ہیں نا۔ انہیں کوئی اور طریقہ سمجھ نہیں آتا۔ آپ دیکھ لیں حضرت علی اور حضرت حسین کے زمانے میں بھی کئی لوگ یزید سے ملے ہوئے تھے۔ آپ اپنی تاریخ دیکھ لیں۔ ابھی میں پڑھ رہا ہوں، غدر میں، انگریزوں کے زمانے میں کس طرح کوآپریٹ کر رہے تھے اور کس طرح اپنے ہی لوگوں نے مخبری کی تھی۔ دو، تین، چار ہزار لوگ تو نکل آتے ہیں پندرہ کروڑ، بیس کروڑ آدمی ہوں تو۔ آپ جائیں بازار سے آدمی لے آئیں، اسے سو روپے دیں اور اسے کہیں کھودنا ہے، اسے اس سے کچھ نہیں ہو گا کہ لان کھودنا یا قبر کھودناہے۔ اس طرح کے بکنے والے لوگ تو موجود ہوتے ہیں۔ اب یہ جو ہیں ممکن ہے کہ کل ووٹ بھی لے جائیں گے۔
سوال: کوئی طریقہ آپ کو سوجھتا ہے اس سے نکلنے کا، ذرا اچھا بننے کا؟
فراز: نا جی نا۔ ناٹ ان مائی لائف، ناٹ ان یورس (نہ تو میری زندگی میں، نہ ہی آپ کی زندگی میں)۔ میں نے ایسی ہی فرسٹریشن میں کہا تھا:
فراز صحنِ چمن میں بہار کا موسم
نہ فیض دیکھ سکے تھے نہ ہم ہی دیکھیں گے
جس ملک کے جرنیل خود حفاظتی گاڑی میں گھوم رہے ہوں اس ملک میں کیا ہے۔ کچھ روز قبل ایک ایڈووکیٹ جنرل بتا رہا تھا کہ ہر جرنیل ریٹائرمنٹ پہ تیس کروڑ کا مالک ہوتا ہے۔ یہ بھی وہ، جس نے کوئی ہینکی پینکی نہ کی ہو صرف تنخواہ پر گزارہ کرے۔
No comments:
Post a Comment